السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: الدليل على أنه إنما يصلي صلاة الخسوف حتى ينجلي، فإذا انجلى لم يبتدأ بالصلاة باب: اس دلیل کا بیان کہ گرہن کی نماز صرف اسی وقت تک پڑھی جائے گی جب تک کہ گرہن ختم نہ ہو جائے، پس جب گرہن ختم ہو جائے تو نماز شروع نہ کی جائے
حدیث نمبر: 6371
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عُمَرَ، وَثنا زَائِدَةُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ زِيَادَةَ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَادْعُوا اللهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " حَتَّى تَنْجَلِيَ "..حافظ ثناء اللہ
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ کے زمانہ میں اس دن سورج گرہن ہوا جس دن ابراہیم فوت ہوئے۔ لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم ان کو دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ روشن ہوجائیں۔“