السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: ما يستحب للإمام من حض الناس على الخير وأمرهم بالتوبة والتقرب إلى الله عز وجل بنوافل الخير في خطبة الخسوف باب: گرہن کے خطبے میں امام کے لیے لوگوں کو بھلائی کی ترغیب دینے، انہیں توبہ کرنے اور نیک نوافل کے ذریعے اللہ عزوجل کا قرب حاصل کرنے کا حکم دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6367
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ إِسْنَادِهِ، قَالَتْ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَتَاقَةٍ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن محمد رحمہ اللہ اس جیسی سند سے ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”گردنیں آزاد کرنے“ کا حکم دیا ہے جب سورج گرہن لگے۔