السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: ما يستحب للإمام من حض الناس على الخير وأمرهم بالتوبة والتقرب إلى الله عز وجل بنوافل الخير في خطبة الخسوف باب: گرہن کے خطبے میں امام کے لیے لوگوں کو بھلائی کی ترغیب دینے، انہیں توبہ کرنے اور نیک نوافل کے ذریعے اللہ عزوجل کا قرب حاصل کرنے کا حکم دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6363
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةَ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ، مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللهَ أَرْسَلَهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا۔ آپ ﷺ گھبرا کر اٹھے، آپ ﷺ ڈر رہے تھے کہ کہیں قیامت ہی قائم نہ ہو جائے۔ آپ ﷺ مسجد میں آئے اور لمبے قیام، رکوع اور سجود والی نماز پڑھائی۔ میں نے آپ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے ایسا کبھی نماز میں کیا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے ظہور پذیر نہیں ہوتیں، لیکن اللہ ان کو اس لیے بھیجتا ہے کہ ان کے ذریعے وہ اپنے بندوں کو ڈرائے۔ جب تم اس میں سے کوئی چیز دیکھو تو تم اللہ کے ذکر اور اس سے دعا و استغفار میں جلدی کرو۔“