حدیث نمبر: 6361
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا زُهَيْرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ: " بَيْنَا أَنَا يَوْمًا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى قِيدِ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الْأُفُقِ، اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَاللهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا. فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتُهُ، ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتُهُ، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتُهُ، قَالَ: ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسِ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَرَسُولُ اللهِ، فَأُذَكِّرُكُمُ اللهَ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالِاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالِاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَدْ بَلَّغْتُ رِسَالِاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي " قَالَ: فَقَامَ النَّاسُ فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالِاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ. قَالَ: ثُمَّ سَكَتُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ ⦗٤٧٢⦘ الشَّمْسِ، وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ، وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَأَنَّهُمْ كَذَبُوا، وَلَكِنْ آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللهِ يَفْتِنُ بِهَا عِبَادَهُ لَيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي دُنْيَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ، وَإِنَّهُ وَاللهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا، آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى لِشَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَإِنَّهُ مَتَى خَرَجَ فَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ فَلَيْسَ يَنْفَعُهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلٍ سَالِفٍ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ فَلَيْسَ يُعَاقَبُ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يُحْضِرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيُزَلْزَلُونَ زِلْزَالًا شَدِيدًا، فَيَهْزِمُهُ اللهُ وَجُنُودُهُ، حَتَّى أَنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ لَيُنَادِي: يَا مُؤْمِنُ، هَذَا كَافِرٌ يَسْتَتِرُ بِي، تَعَالَ اقْتُلْهُ، قَالَ: وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، تَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ: هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا، وَحَتَّى يَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاسِيهَا، ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ ". قَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً أُخْرَى قَالَ: فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ مَا قَدَّمَهَا وَلَا أَخَّرَهَا ".
حافظ ثناء اللہ

ثعلبہ بن عباد عبدی بصری ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا: میں اور انصار کے بچے ایک دن نبی ﷺ کے دور میں نشانہ بازی کر رہے تھے کہ سورج آسمان کے کنارے میں دو نیزے یا تین نیزے کی مقدار کے مطابق لگ رہا تھا اور سورج بے نور ہو چکا تھا تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ”ہمارے ساتھ مسجد چلیے۔ اللہ کی قسم! اس سورج نے نبی ﷺ کی امت کے لیے نئی بات پیدا کر دی ہے۔“ ہم مسجد کی طرف لوٹے۔ اچانک نبی ﷺ بھی ظاہر ہوئے تو ہم نے نبی ﷺ کی موافقت کی، جس وقت آپ ﷺ لوگوں کی طرف نکلے۔ راوی فرماتے ہیں: آپ ﷺ آگے بڑھے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ اتنا لمبا قیام کیا کہ اس سے پہلے آپ ﷺ نے کبھی ہمیں اتنا لمبا قیام نہیں کروایا تھا اور آپ ﷺ کی آواز بھی سنائی نہ دی۔ پھر آپ ﷺ نے اتنا لمبا رکوع کروایا، جتنا کبھی پہلے نہیں کروایا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں سجدہ کروایا اور اتنا لمبا کہ پہلے کبھی اتنا لمبا سجدہ نہیں کروایا تھا اور آپ ﷺ کی آواز بھی سنائی نہ دی۔ پھر آپ ﷺ نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا اور سورج روشن ہونے تک دوسری رکعت میں بیٹھے رہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں انسان ہوں اور اللہ کا رسول ہوں۔ میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچانے میں کوتاہی کی ہے، تو تم مجھے خبر دو یہاں تک کہ میں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دوں جیسا کہ مناسب ہے کہ ان کو پہنچایا جائے۔ اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے تو مجھے خبر دے دو۔“ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے اور اپنی امت کی خیر خواہی کی اور آپ نے وہ حق ادا کیا جو آپ ﷺ کے اوپر تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر سارے خاموش ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ چاند اور سورج کا گرہن ہونا اور ستاروں کا اپنے طلوع ہونے کی جگہوں سے زائل ہو جانا زمین والوں میں سے کسی بڑے کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے، حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں، جس کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ کون اس سے توبہ کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! جب سے میں نماز کے لیے کھڑا ہوا ہوں تو میں نے وہ سب کچھ دیکھا ہے جسے تم دنیا اور آخرت میں ملنے والے ہو اور اللہ کی قسم! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس جھوٹے آدمی نہ نکلیں گے۔ ان میں سے آخری بائیں آنکھ سے کانا دجال ہو گا۔“
”اس کی آنکھ ایسے ہو گی، جیسے انصار کے بوڑھے ابو یحییٰ کی آنکھ ہے۔ جب وہ نکلے گا تو اس کا گمان ہو گا کہ وہ اللہ ہے۔ جو اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق اور اتباع کی تو اس کے پہلے والے نیک عمل بھی اس کو فائدہ نہیں دیں گے اور جس نے اس کا انکار اور تکذیب کی اس کو اس کے پہلے برے اعمال کی وجہ سے سزا نہ دی جائے گی۔ وہ پوری زمین پر غلبہ پا لے گا سوائے حرم اور بیت المقدس کے اور مومن لوگ بیت المقدس میں حاضر ہو جائیں گے، پھر شدید قسم کے زلزلے آئیں گے تو اللہ اسے اور اس کے لشکر کو شکست دیں گے، یہاں تک کہ اگر دیوار کے پیچھے اور درخت کی اوٹ میں کوئی ہو گا تو وہ دیوار اور درخت کہے گا کہ اے مومن! یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے تو اسے قتل کر دے۔“ راوی کا بیان ہے کہ (نبی ﷺ نے فرمایا:) ”ہرگز اس طرح نہیں ہو گا، یہاں تک کہ تم ایسے امور کو دیکھو گے کہ ان کی شدت تمہارے دلوں میں بھی بڑھ جائے گی تو تم آپس میں سوال کرو گے کہ کیا تمہارے نبی نے تمہارے لیے کوئی چیز ذکر کی؟ یہاں تک کہ پہاڑ بھی اپنی مقررہ جگہوں سے ہٹ جائیں گے، پھر اس کے بعد موت ہے۔“
پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر میں دوسرے خطبہ میں حاضر ہوا تو انہوں نے پھر اس حدیث کو ذکر کیا اور اس میں تقدیم و تاخیر نہیں کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6361
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم 6342»