حدیث نمبر: 6359
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللهَ، وَكَبِّرُوا، وَتَصَدَّقُوا " ثُمَّ قَالَ: " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہوا۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا، پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور لمبا قیام کیا، لیکن پہلے سے مختصر۔ پھر لمبا رکوع کیا لیکن پہلے سے ذرا کم، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، پھر سلام پھیر دیا اور سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”سورج اور چاند کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اللہ کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ دو۔“ پھر فرمایا: ”اے امتِ محمد ﷺ! اللہ کی قسم! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں کہ اس کا بندہ یا بندی زنا کرے،“ پھر فرمایا: ”اے امتِ محمد ﷺ! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6359
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم 6307»