السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: من اختار الجهر بها باب: جس نے اس میں بلند آواز سے قراءت کرنے کو اختیار کیا
حدیث نمبر: 6345
فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَهَرَ بِالْقُرْآنِ وَأَطَالَ ". وَأَمَّا حَدِيثُ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ.حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی، پھر آپ ﷺ نے بلند آواز سے قرآن پڑھا اور لمبی قراءت کی۔