حدیث نمبر: 6321
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ،. ح وَأنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَرُكُوعُهُ نَحْوٌ مِنْ سُجُودِهِ وَزَادَ فِي تَأَخُّرِ الصُّفُوفِ قَالَ: حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ، ثُمَّ زَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: " مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ حَتَّى جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ يَسْرِقُ مَتَاعَ الْحُجَّاجِ بِمِحْجَنِهِ، فَإِنْ فُطِنَ لَهُ قَالَ إِنَّهُ تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي، وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ، وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي، وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَمَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ نَظَرَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَفِي الْقِصَّةِ الَّتِي رَوَاهَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَلِمَ أَنَّهَا قِصَّةٌ وَاحِدَةٌ، وَأَنَّ الصَّلَاةَ الَّتِي أَخْبَرَ عَنْهَا إِنَّمَا فَعَلَهَا يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِ اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ، وَرِوَايَةُ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ وَكَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرِوَايَةُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ ⦗٤٥٦⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَرِوَايَةُ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا صَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رُكُوعَيْنِ"، وَفِي حِكَايَةِ أَكْثَرِهِمْ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا تَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ" دَلَالَةً عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا صَلَّاهَا يَوْمَ تُوُفِّيَ ابْنُهُ، فَخَطَبَ وَقَالَ هَذِهِ الْمَقَالَةَ رَدًّا لِقَوْلِهِمْ: إِنَّمَا كَسَفَتْ لِمَوْتِهِ، وَفِي اتِّفَاقِ هَؤُلَاءِ الْعَدَدِ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِمْ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَزِدْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ عَلَى رُكُوعَيْنِ، كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ

(الف) عبد الملک نے اپنی سند سے اسی کے ہم معنی بیان کیا ہے، فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا رکوع سجدے کی طرح ہی تھا۔ اس میں اضافہ کیا ہے کہ صفیں اس قدر پیچھے ہٹیں کہ وہ عورتوں تک پہنچ گئیں۔ حدیث کے آخر میں اضافہ ہے کہ: ”کوئی چیز ایسی نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہو اور میں نے اس کو اپنی اس نماز میں نہ دیکھا ہو۔ جہنم کو لایا گیا، جس وقت تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ رہا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں اس کے شعلے مجھ تک نہ پہنچ جائیں، یہاں تک کہ میں نے اس میں کھونٹی والے کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں جہنم میں کھینچ رہا تھا۔ وہ حاجیوں کے سامان کو اپنی کھونٹی سے چرایا کرتا تھا، اگر اسے علم ہو جاتا تو کہہ دیتا کہ وہ میری کھونٹی سے اٹک گیا، اور اگر اسے پتا نہ چلتا تو وہ اسے لے جاتا۔ اور میں نے جہنم میں ایک بلی کو باندھنے والی عورت کو دیکھا، نہ تو وہ اس کو کھلاتی تھی اور نہ ہی اس کو چھوڑتی تھی تاکہ وہ زمین کے حشرات کو کھا کر گزارہ کر لیتی، یہاں تک کہ وہ بھوکی مر گئی۔ پھر جنت کو لایا گیا، یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور میں نے اپنا ہاتھ پھیلایا تاکہ اس کے پھل حاصل کر لوں، تاکہ تم دیکھ لو، پھر میرے لیے ظاہر ہوا کہ میں ایسا نہ کروں۔ جس چیز کا بھی تم سے وعدہ کیا گیا، میں نے اس کو اپنی اس نماز میں دیکھا۔“
شیخ فرماتے ہیں: ابوزبیر عن جابر والا اور یہ دونوں ایک ہی قصہ ہے اور یہ وہ نماز بیان کی جب نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے۔
(ب) ابوزبیر سے روایت ہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع تھے۔
(ج) اکثر کا قول ہے کہ: ”سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔“ اس پر لوگوں کا اتفاق ہے کہ آپ ﷺ نے ایک رکعت میں دو رکوع سے زائد نہیں کیے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6321
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»