السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: من أجاز أن يصلى في الخسوف ركعتين في كل ركعة ثلاث ركوعات باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں تین رکوع ہوں
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ يُرِيدُ عَائِشَةَ: " أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا، يَقُومُ قِيَامًا ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رُكُوعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَرْكَعُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" فَقَامَ فَحَمِدَ اللهُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللهِ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللهَ حَتَّى يَنْجَلِيَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَجَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ.عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ ﷺ نے طویل قیام کیا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے، پھر رکوع فرمایا، پھر کھڑے ہوئے، پھر رکوع فرمایا، پھر کھڑے ہوئے، پھر آپ ﷺ نے دو رکعات پڑھیں اور تین رکوع اور چار سجدے کیے، پھر سلام پھیرا اور سورج روشن ہو چکا تھا۔ جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو فرماتے: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“، پھر رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند کو گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جن کے ذریعے اللہ رب العزت ڈراتے ہیں، جب تم گرہن کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے۔“