السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: اجتماع العيدين بأن يوافق يوم العيد يوم الجمعة باب: عید اور جمعہ کا دن ایک ساتھ آ جانے کے سبب دو عیدوں کا جمع ہونا
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ سُفْيَانَ ثنا حَبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ: " أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ يَوْمَ الْأَضْحَى مَعَ عُمَرَ، فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْعِيدَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ ".ابوعبید مولیٰ ابن ازہر فرماتے ہیں کہ وہ عید الاضحی کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوئے۔ انہوں نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے ”عیدین میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔“ ایک تو وہ دن ہے کہ تم اپنے روزوں کو افطار کرتے ہو، یعنی عید الفطر مناتے ہو اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانیوں کے گوشت کھاتے ہو۔ ابوعبید فرماتے ہیں: پھر میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا تو یہ عید بھی جمعہ کے دن تھی۔ انہوں نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! اس دن تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں، تو عوالی والوں میں سے جو جمعہ کا انتظار کرنا چاہے وہ انتظار کر سکتا ہے اور جو واپس جانا چاہے جا سکتا ہے، میں اجازت دیتا ہوں۔
ابوعبید فرماتے ہیں: پھر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا تو انہوں نے بھی نمازِ عید خطبہ سے پہلے پڑھائی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی قربانیوں کے گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھاؤ۔“