السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: سنة التكبير للرجال والنساء والمقيمين والمسافرين والذي يصلي سنة منفردا وفي جماعة ويصلي نافلة باب: مردوں، عورتوں، مقیموں، مسافروں، اکیلے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والے، اور نفل پڑھنے والے سب کے لیے تکبیر کے سنت ہونے کا بیان
لِقَوْلِ اللهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ} [البقرة: 203] فَعَمَّ وَلَمْ يَخُصَّ وَقَالَ: {فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا ⦗442⦘ اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا} [البقرة: 200].اللہ جل ثناؤہ کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾ ”اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کو یاد کرو۔“ [سورة البقرة: 203]
پس اللہ تعالیٰ نے اسے عام رکھا ہے اور خاص نہیں کیا، اور فرمایا: ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا﴾ ”پھر جب تم اپنے حج کے ارکان پورے کر لو تو اللہ کا ذکر اس طرح کرو جیسے تم اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ۔“ [سورة البقرة: 200]
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرِ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمُومَةٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُغْمِيَ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ، فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوَا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا مَنْ يَوْمِهِمْ، وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ ". هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ، وَعُمُومَةِ أَبِي عُمَيْرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكُونُونَ إِلَّا ثِقَاتٍ، وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَوْ ثَبَتَ ذَلِكَ قُلْنَا بِهِ، وَقُلْنَا أَيْضًا فَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ بِهِمْ مِنَ الْغَدِ خَرَجَ بِهِمْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ، وَقُلْنَا يُصَلِّي فِي ⦗٤٤٣⦘ يَوْمِهِ بَعْدَ الزَّوَالِ ". وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ.ابوعمیر بن انس بن مالک رضی اللہ عنہما، جو ان کے بڑے بیٹوں میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ میرے انصاری چچاؤں میں سے جو صحابی رسول رضی اللہ عنہم ہیں، فرماتے ہیں کہ شوال کا چاند مخفی رہ گیا تو ہم نے صبح روزہ رکھ لیا، ایک قافلہ دن کے آخری میں آیا، انہوں نے گواہی دی کہ کل شام ہم نے چاند دیکھا تھا، آپ ﷺ نے صحابہ کو روزہ چھوڑنے کا حکم فرمایا اور فرمایا: ”کل صبح عید کے لیے نکلیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ بات ثابت ہے تو ٹھیک ہے، اگر وہ عید کے لیے اگلے دن نہیں نکلے تو اس سے اگلے دن نکل آئیں یا پھر اسی دن زوال کے بعد نماز عید ادا کرلیں۔