حدیث نمبر: 6279
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعًا لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذِنَ النَّاسَ فِي الْحَجِّ فَذَكَرَ الْحَدِيثُ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا فَقَالَ: " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ "، وَقَالَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] قَالَ: فَرَقَى عَلَى الصَّفَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ وَكَبَّرَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ "، ثُمَّ يَدْعُو بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ فَمَشَى حَتَّى إِذَا أَتَى بَطْنَ الْمَسِيلِ سَعَى حَتَّى ⦗٤٤١⦘ أَصْعَدَ قَدَمَيْهِ فِي الْمَسِيلِ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ فَكَبَّرَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ "، هَكَذَا كَمَا فَعَلَ يَعْنِي: عَلَى الصَّفَا، ثُمَّ نَزَلَ ".
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مدینہ میں نو سال قیام کیا، لیکن حج نہیں کیا۔ پھر لوگوں کو حج کی اجازت دی۔ پھر انھوں نے حدیث ذکر کی جس میں نبی ﷺ کے حج کا تذکرہ ہے۔ فرماتے ہیں: پھر آپ ﷺ صفا کی جانب نکلے اور فرمایا: ”ہم بھی وہاں سے ابتدا کریں گے، جہاں سے اللہ نے ابتدا کی ہے“ اور تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ پھر آپ ﷺ صفا پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ نظر آگیا تو آپ ﷺ نے تین بار تکبیر کہی اور فرمایا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اس کی ہے۔ تعریف اسی کے لیے ہے۔ وہ زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی۔ اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ پھر آپ ﷺ وہاں دعا مانگتے۔ پھر نیچے اترتے اور چلتے۔ یہاں تک کہ وادی کے نشیبی علاقے میں آجاتے۔ پھر دوڑ کر دو قدم اوپر چڑھ جاتے۔ پھر چلتے ہوئے مروہ کے پاس آتے اور اس پر چڑھتے اور بیت اللہ سامنے نظر آنے لگتا، پھر تین مرتبہ تکبیر کہتے اور فرماتے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں“ اس طرح جیسے صفا پر کرتے تھے۔ پھر اتر آئے۔
(ب) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے اونٹ پر سفر کی غرض سے سوار ہوتے تو تین مرتبہ تکبیر کہتے۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ غزوہ، حج یا عمرہ سے واپس پلٹتے تو ہر بلند جگہ پر تین مرتبہ تکبیر کہتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6279
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1218»