السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: صلاة العيد في المسجد إذا كان عذر من مطر أو غيره باب: بارش یا کسی اور عذر کی وجہ سے عید کی نماز مسجد میں پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمِنِ التَّيْمِيِّ قَالَ: مُطِرْنَا فِي إِمَارَةِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ مَطَرًا شَدِيدًا لَيْلَةَ الْفِطْرِ فَجَمَعَ النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَى الْمُصَلَّى الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الْفِطْرَ وَالْأَضْحَى، ثُمَّ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ: " قُمْ فَأَخْبِرِ النَّاسَ مَا أَخْبَرْتَنِي. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ: " إِنَّ النَّاسَ مُطِرُوا عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَامْتَنَعَ النَّاسُ مِنَ الْمُصَلَّى، فَجَمَعَ عُمَرُ النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ بِالنَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلِّي بِهِمْ لِأَنَّهُ أَرْفَقُ بِهِمْ وَأَوْسَعُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ لَا يَسِعُهُمْ ". قَالَ: " فَإِذَا كَانَ هَذَا الْمَطَرُ فَالْمَسْجِدُ أَرْفَقُ ".عثمان بن عبدالرحمن تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ مدینہ کے گورنر تھے۔ عیدالفطر کی رات سخت بارش ہوئی۔ انہوں نے لوگوں کو مسجد میں جمع کر لیا اور عیدگاہ کی طرف نہیں نکلے، جس میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ ادا کی جاتی ہے۔ پھر عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا: لوگوں کو بتاؤ جو مجھے بتایا ہے، تو عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بارش ہوگئی تو لوگ عیدگاہ جانے سے رک گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مسجد میں جمع کر کے نماز پڑھا دی۔ پھر منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! رسول اللہ ﷺ لوگوں کو عیدگاہ کی طرف نکالتے اور ان کو نماز پڑھاتے۔ کیونکہ یہ ان کے لیے زیادہ آسانی اور وسعت والا تھا، اور مسجد ان کے لیے کافی نہیں ہوتی تھی۔ پھر فرمایا: جب یہ بارش ہو تو مسجد زیادہ آسانی والی ہے۔