حدیث نمبر: 6256
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمِنِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ مِنَ الْمُصَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَسَلَكَ عَلَى التَّمَّارِينَ مِنْ أَسْفَلِ السُّوقِ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ مَسْجِدِ الْأَعْرَجِ الَّذِي عِنْدَ مَوْضِعِ الْبِرْكَةِ الَّتِي بِالسُّوقِ، قَامَ فَاسْتَقْبَلَ فَجَّ أَسْلَمَ فَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ ".
حافظ ثناء اللہ

عبد الرحمن تیمی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ عید کے دن عید گاہ سے واپس آ رہے تھے تو آپ ﷺ کھجور بیچنے والے کے راستے سے گزر رہے تھے۔ جب آپ ﷺ مسجدِ اعرج کے پاس آئے جو برکہ نامی جگہ کے پاس ہے اور وہاں بازار ہے تو وہاں کھڑے ہوئے، پھر کوئی شخص اچانک متوجہ ہوا، اس نے جلدی سے اسلام قبول کر لیا، پھر آپ ﷺ نے دعا مانگی اور آپ ﷺ چلے گئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6256
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً۔ أخرجه الشافعي 352»