السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: خروج الصبيان إلى العيد باب: بچوں کے عید (کی نماز) کے لیے نکلنے کا بیان
حدیث نمبر: 6244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ: " أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ ⦗٤٣٠⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قَالَ: " نَعَمْ، وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: فَجَعَلْنَ النِّسَاءَ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَتَاهُنَّ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، قَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عابس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: ”کیا آپ ﷺ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید میں حاضر تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، اگر میرا رہنا آپ ﷺ کے گھر نہ ہوتا تو میں چھوٹی عمر کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکتا۔“ آپ ﷺ کثیر بن صلت کے گھر کے قریب آئے تو آپ ﷺ نے وہاں نماز پڑھی اور خطبہ دیا، لیکن اذان اور اقامت کا تذکرہ نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں سے زیور اتار رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، وہ ان کے پاس گئے اور پھر نبی ﷺ کے پاس واپس لوٹے۔