السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: صلاة العيدين سنة أهل الإسلام حيث كانوا باب: اہل اسلام جہاں بھی ہوں عیدین کی نماز ان کا طریقہ (سنت) ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيَّانِ بِهَا قَالَا: ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ خَادِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ أَنَسٌ إِذَا فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعِيدِ مَعَ الْإِمَامِ جَمَعَ أَهْلَهُ فَصَلَّى بِهِمْ مِثْلَ صَلَاةِ الْإِمَامِ فِي الْعِيدِ ".عبید اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے جب نمازِ عید امام سے رہ جاتی تو وہ اپنے گھر والوں کو جمع کر کے ویسے ہی نماز پڑھاتے جیسے امام عید کی نماز پڑھاتا ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا کہ جب وہ اپنے گھر ”زاویہ“ میں ہوتے اور بصرہ میں عید کے لیے حاضر نہ ہوتے تو وہ اپنے غلاموں اور بیٹوں کو جمع کرتے، پھر اپنے غلام عبداللہ بن ابی عتبہ کو حکم دیتے، وہ شہر والوں کی طرح ان کو نماز پڑھاتے اور ان کی تکبیروں کی طرح تکبیر کہتے۔ اور حسن بصری رحمہ اللہ سے مسافر کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاشت کے وقت کو پا لے تو وہ رک جائے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، پھر دو رکعت نماز پڑھے، پھر اگر نمازِ چاشت پڑھنی ہے تو پڑھ لے۔
عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل کیا جاتا ہے کہ سواد والے عید میں جمع ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی جیسے امام کرتا ہے؛ اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ پسند کرتے تھے کہ جب آدمی سے عیدین کی نماز رہ جائے تو وہ ”جبان“ جا کر ویسے ہی نماز پڑھے جیسے امام پڑھتا ہے؛ اور عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نمازِ عید رہ جائے تو دو رکعت نماز ادا کرے، لیکن ان دونوں میں تکبیر نہیں ہے۔