حدیث نمبر: 6227
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عِيسَى ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبَانُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ، فَخَرَجَ يَمْشِي حَتَّى أَتَى الْمُصَلَّى، أَظُنُّهُ قَالَ: فَقَعَدَ حَتَّى أَتَى الْإِمَامُ ثُمَّ صَلَّى وَانْصَرَفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ ابْنُ عُمَرَ، فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، قُلْتُ: يَا ابْنَ عُمَرَ مَا قُدَّامَهَا وَمَا خَلْفَهَا صَلَاةٌ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوبکر بن حفص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عید الاضحی یا عید الفطر کے دن اہل عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ نکلا، وہ پیدل چلتے ہوئے عید گاہ آئے اور بیٹھ گئے۔ امام آیا، اس نے نماز پڑھائی اور چلا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی چلے گئے، انہوں نے اس سے پہلے اور بعد میں نماز نہیں پڑھی۔ میں نے کہا: اے ابن عمر! کیا اس سے پہلے اور بعد میں نماز نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6227
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه عبد بن حميد في المنتخب 838»