السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: أمر الإمام الناس في خطبته بطاعة الله عز وجل وحضهم على الصدقة والتقرب إلى الله سبحانه، والكف عن معصيته باب: امام کا اپنے خطبے میں لوگوں کو اللہ عزوجل کی اطاعت کا حکم دینا اور انہیں صدقہ کرنے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی ترغیب دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَهُمْ، وَذَكَّرَهُمْ، وَمَضَى مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ، فَأَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَقَالَ: " تَصَدَّقْنَ؛ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ "، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ، فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ "، فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ خَوَاتِمِهِنَّ، وَقَلَائِدِهِنَّ، وَأَقْلِبَتِهِنَّ، يَعْطِينَهُ بِلَالًا يَتَصَدَّقْنَ بِهِ ". ⦗٤٢٢⦘.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ عید کے دن نبی ﷺ کے ساتھ حاضر تھے۔ نبی ﷺ نے خطبہ سے پہلے نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور ان کو وعظ و نصیحت کی۔ اسی طرح سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگائے ہوئے بھی آپ ﷺ عورتوں کے پاس آئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا: ”تم صدقہ کیا کرو؛ کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے“ تو ایک ادنیٰ درجہ کی عورت سیاہ رخساروں والی کھڑی ہوئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بہت زیادہ شکوہ کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری۔“ عورتیں اپنی انگوٹھیاں، ہار اور بالیاں اتارنا شروع ہوئیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں۔