السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: : يبدأ بالصلاة قبل الخطبة باب: خطبہ سے پہلے نماز شروع کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَأَمَرَ النَّاسَ بِتَقْوَى اللهِ، وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ، وَوَعَظَهُمْ، وَذَكَّرَهُمْ، ثُمَّ مَضَى مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ، فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللهِ، وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ، وَوَعَظَهُنَّ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَقَالَ: " تَصَدَّقْنَ؛ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ "، قَالَ: فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءَ الْخَدَّيْنِ، فَقَالَتْ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ "، فَجَعَلْنَ يَنْزِعَنَّ مِنْ قِرَطِهِنَّ، وَقَلَائِدِهِنَّ، وَخَوَاتِمِهِنَّ، فَيَقْذِفْنَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، يَتَصَدَّقْنَ بِهِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی ﷺ کے ساتھ حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے پہلے نماز بغیر اذان و اقامت کے پڑھائی، بعد میں خطبہ دیا۔ پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگائی اور لوگوں کو تقویٰ و اطاعت کا حکم دیا اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگائی اور آپ ﷺ عورتوں کے پاس آئے۔ ان کو تقویٰ کا حکم فرمایا، اطاعت پر ابھارا اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا: ”تم صدقہ کرو، تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔“ فرماتے ہیں کہ ایک ادنیٰ درجے کی عورت سیاہ رخساروں والی کھڑی ہوئی، کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! کیوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم لعنت زیادہ کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔“ تو عورتیں اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔