السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: رفع اليدين في تكبير العيد باب: عید کی تکبیروں میں رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
حدیث نمبر: 6188
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ⦗٤١٢⦘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ وَرَكَعَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ "، ثُمَّ يَسْجُدُ وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ، وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ ".حافظ ثناء اللہ
سالم، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو بلند فرماتے یہاں تک کہ وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، تکبیر کہتے اور وہ دونوں ہاتھ ویسے ہی ہوتے تو رکوع کرتے اور جب اپنی کمر کو سیدھا کرنا چاہتے، تب اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرماتے، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، پھر سجدہ فرماتے لیکن سجدوں میں ہاتھوں کو بلند نہ فرماتے تھے اور اپنے ہاتھوں کو بلند فرماتے جب رکوع سے پہلے تکبیر کہتے نماز کے مکمل ہونے تک۔