حدیث نمبر: 6186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَأَبَا مُوسَى وَحُذَيْفَةَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ قَبْلَ الْعِيدِ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ هَذَا الْعِيدَ قَدْ دَنَا، فَكَيْفَ التَّكْبِيرُ فِيهِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " تَبْدَأُ فَتُكَبِّرُ تَكْبِيرَةً تَفْتَتِحُ بِهَا الصَّلَاةَ، وَتَحْمَدُ رَبَّكَ، وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَدْعُو ⦗٤١١⦘ وَتُكَبِّرُ، وَتَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُكَبِّرُ وَتَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُكَبِّرُ وَتَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُكَبِّرُ وَتَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تَقْرَأُ وَتَرْكَعُ، ثُمَّ تَقُومُ فَتَقْرَأُ، وَتَحْمَدُ رَبَّكَ، وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَدْعُو، ثُمَّ تُكَبِّرُ وَتَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُكَبِّرُ وَتَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُكَبِّرُ وَتَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُكَبِّرُ وَتَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ ". وَهَذَا مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْقُوفٌ عَلَيْهِ، فَتَابَعَهُ فِي الْوُقُوفِ بَيْنَ كُلِّ تَكْبِيرَتَيْنِ لِلذِّكْرِ إِذْ لَمْ يُرْوَ خِلَافُهُ عَنْ غَيْرِهِ، وَنُخَالِفُهُ فِي عَدَدِ التَّكْبِيرَاتِ وَتَقْدِيمِهِنَّ عَلَى الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَمِيعًا بِحَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ فِعْلِ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ، وَعَمَلِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عید سے پہلے ولید بن عقبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابو موسیٰ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہم کی طرف آئے اور ان سے کہنے لگے کہ عید قریب ہے، اس میں تکبیرات کیسے کہنی چاہئیں؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ابتدائی تکبیر کہہ جس سے نماز کی ابتدا ہوتی ہے، اللہ کی حمد بیان کر اور نبی ﷺ پر درود پڑھ، پھر دعا کر، پھر تکبیر کہہ کر اسی طرح کر، پھر قرأت کر اور رکوع کر، پھر جب تو کھڑا ہو تو قرأت کر اور اللہ کی حمد بیان کر، نبی ﷺ پر درود پڑھ، پھر دعا کر، پھر تکبیر کہہ، پھر اسی طرح کر، پھر تکبیر کہہ اور اسی طرح کر، پھر تکبیر کہہ اور اسی طرح کر، پھر تکبیر کہہ، پھر اسی طرح کر۔ یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ ہم ان کی متابعت کرتے ہیں کہ دونوں تکبیروں کے درمیان ذکر کے لیے رکنا چاہیے، کوئی اس کی مخالفت نہیں کرتا، لیکن ہم تکبیرات کی تعداد اور قرأت کو دونوں رکعات میں مقدم کرنے پر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ نبی ﷺ کی حدیث، اہل مدینہ کا عمل اور مسلمان آج تک اسی پر عمل کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6186