السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: حمل العنزة أو الحربة بين يدي الإمام يوم العيد، ثم نصبها ليصلي إليها إذا لم تكن في المصلى سترة باب: عید کے دن امام کے آگے نیزہ یا برچھی اٹھا کر لے جانے، پھر اسے گاڑ کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان جبکہ عید گاہ میں کوئی سترہ نہ ہو
حدیث نمبر: 6169
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَسَّانَ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ جِيءَ بِالْعَنَزَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى تُرْكَزَ فِي الْمُصَلَّى فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصَلَّى كَانَ فَضَاءً، لَيْسَ شَيْئًا مَبْنِيًّا يُسْتَرُ بِهِ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالْعَنَزَةِ فَتُرْكَزُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا ".حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب بھی عید الفطر یا عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف جاتے تو نیزہ آپ ﷺ کے سامنے لایا جاتا، وہ عید گاہ میں گاڑ دیا جاتا اور آپ ﷺ اس کو سترہ بناتے۔ وہ خالی جگہ تھی، وہاں کوئی عمارت نہ تھی جس کے ذریعے سترہ بنا سکیں، تو نبی ﷺ نیزہ لانے کا حکم فرماتے تو وہ آپ ﷺ کے سامنے گاڑ دیا جاتا اور آپ ﷺ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے۔