حدیث نمبر: 21720
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ، وَسَالِمًا، عَنِ الْمُكَاتَبِ يَقْضِي نِصْفَ كِتَابَتِهِ ثُمَّ يُكَاتِبُ الْمُكَاتَبُ غُلَامًا لَهُ، ثُمَّ يَسْعَيَانِ جَمِيعًا، فَيَقْضِي ⦗٥٦٤⦘ غُلَامُ الْمُكَاتَبِ كِتَابَتَهُ، ثُمَّ يَعْجَزُ الْأَوَّلُ مِنْهُمَا، أَيُرَدُّ عَبْدًا أَمْ يَجُوزُ عَتَاقَهُ بِمَا أَدَّى إِلَى سَيِّدِهِ؟ قَالَا: " إِنْ كَانَ سَيِّدُهُ الْأَوَّلُ مِنْهُمَا أَذِنَ لَهُ أَنْ يُكَاتِبَهُ فَلَا سَبِيلَ عَلَيْهِ، وَإِلَّا فَهُوَ بِمَنْزِلَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ

خالد بن ابی عمران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم اور سالم رحمہما اللہ سے مکاتب کے بارے میں سوال کیا جو اپنی نصف کتابت ادا کر دیتا ہے، پھر وہ دوسرے غلام سے بھی مکاتبت کر لیتا ہے، پھر وہ دونوں غلام کوشش کر کے ایک غلام کی کتابت ادا کرتے ہیں، پھر پہلا عاجز آ جاتا ہے، کیا وہ غلام رہے گا یا آزاد ہو جائے گا اس کے عوض جو اس نے اپنے مالک کو ادا کر دیا؟ دونوں فرماتے ہیں کہ اگر اس کا پہلا مالک اس کو اجازت دے کہ وہ کتابت کر لے تو پھر وہ بھی اس کے مرتبہ و مقام پر ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21720
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»