السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : ما جاء في تفسير قوله عز وجل: وآتوهم من مال الله الذي آتاكم. باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر کے بارے میں وارد شدہ بیان: ”اور انہیں اللہ کے اس مال میں سے دو جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے“۔
حدیث نمبر: 21679
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، فِي قَوْلِهِ: {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي آتَاكُمْ} [النور: ٣٣] قَالَ: " كَانَ يُعْجِبُهُمْ أَنْ يَدَعَ الرَّجُلُ لِمُكَاتَبِهِ طَائِفَةً مِنْ مُكَاتَبَتِهِ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ اس قول ﴿وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾ [سورة النور: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہیں یہ پسند تھا کہ آدمی اپنے مکاتب غلام کی مکاتبت میں سے کچھ چھوڑ دے۔ مجاہد رحمہ اللہ اس قول ﴿وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾ [سورة النور: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ غلاموں کے ایک گروہ کو آزاد کر دیا جائے۔