السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من كره أخذها فأبرأه من مال الكتابة بقدرها. باب: جس نے اسے (صدقات کو) وصول کرنا مکروہ سمجھا، چنانچہ اس نے اسے اسی قدر مالِ کتابت سے بری کر دیا۔
حدیث نمبر: 21677
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مَا تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ مِنْ آخِرِ مُكَاتَبَتِهِ "..حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ پسند کرتے تھے کہ اپنی آخری مکاتبت سے جتنی رقم چاہیں چھوڑ دیں۔