السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من كره أخذها فأبرأه من مال الكتابة بقدرها. باب: جس نے اسے (صدقات کو) وصول کرنا مکروہ سمجھا، چنانچہ اس نے اسے اسی قدر مالِ کتابت سے بری کر دیا۔
حدیث نمبر: 21674
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنّهُ قَالَ: " كَاتَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: شَرَفٌ عَلَى خَمْسَةٍ وَثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَوَضَعَ لَهُ مِنْ آخِرِ كِتَابَتِهِ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ نَافِعٌ أَنَّهُ أَعْطَاهُ شَيْئًا غَيْرَ الَّذِي وَضَعَ لَهُ.حافظ ثناء اللہ
مخرمہ بن بکیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نافع نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے مکاتبت کی تو انہوں نے 35 ہزار درہم مقرر کیے اور اپنی آخری مکاتبت میں سے 5 ہزار درہم کم کر دیے۔ نافع نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کم کردہ رقم کے علاوہ بھی اس کو دیا کہ نہیں۔