السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : المدبر يجوز بيعه متى شاء مالكه. باب: مدبر غلام کو اس کا مالک جب چاہے فروخت کر سکتا ہے، یہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 21562
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دَبَّرَتْ ⦗٥٢٨⦘ جَارِيَةً لَهَا، فَسَحَرَتْهَا، فَاعْتَرَفَتْ بِالسِّحْرِ، فَأَمَرَتْ بِهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ تُبَاعَ مِنَ الْأَعْرَابِ مِمَّنْ يُسِيءُ مَمْلَكَتَهَا، فَبِيعَتْ..حافظ ثناء اللہ
ابو الرجال محمد بن عبدالرحمن اپنی والدہ عمرہ سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنی ایک ایسی لونڈی کو مدبر کیا تھا جس نے (ان پر) جادو کیا اور اس کا اعتراف بھی کر لیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ اسے کسی ایسے دیہاتی کے ہاتھ فروخت کر دیا جائے جو بری ملکیت والا ہو (یعنی اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے)، چنانچہ اسے فروخت کر دیا گیا۔