السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : المدبر يجوز بيعه متى شاء مالكه. باب: مدبر غلام کو اس کا مالک جب چاہے فروخت کر سکتا ہے، یہ جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ قَالَ قَائِلٌ: رُوِّينَا، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا بَاعَ خِدْمَةَ الْمُدَبَّرِ. فَقُلْتُ لَهُ: " مَا رَوَى هَذَا عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ فِيمَا عَلِمْتُ أَحَدٌ يَثْبُتُ حَدِيثُهُ، وَلَوْ رَوَاهُ مَنْ يَثْبُتُ حَدِيثُهُ مَا كَانَ لَهُ فِي ذَلِكَ الْحُجَّةُ مِنْ وُجُوهٍ "، قَالَ: وَمَا هِيَ؟ قُلْتُ: " أَنْتَ لَا تُثْبِتُ الْمُنْقَطِعَ لَوْ لَمْ يُخَالِفْهُ غَيْرُهُ، فَكَيْفَ تُثْبِتُ الْمُنْقَطِعَ يُخَالِفُهُ الْمُتَّصِلُ الثَّابِتُ لَوْ كَانَ يُخَالِفُهُ؟ " قَالَ: فَهَلْ يُخَالِفُهُ؟ قُلْتُ: " لَيْسَ بِحَدِيثٍ فَأَحْتَاجَ إِلَى ذِكْرِهِ "، قَالَ: فَاذْكُرْهُ عَلَى مَا فِيهِ عِنْدَكَ، قُلْتُ: " لَوْ ثَبَتَ كَانَ يَجُوزُ أَنْ أَقُولَ: بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَبَةَ مُدَبَّرٍ، كَمَا حَدَّثَ جَابِرٌ، وَخِدْمَةَ مُدَبَّرٍ كَمَا حَدَّثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ. فَأَطَالَ الْكَلَامَ فِي الْجَوَابِ عَنْهُ، وَقَدْ وَصَلَهُ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَبْدُ الْغَفَّارِ هَذَا كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ يَرْمِيهِ بِالْوَضْعِ، وَوَصَلَهُ أَيْضًا أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرٍ. وَأَبُو شَيْبَةَ ضَعِيفٌ، وَلَا يُحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ نَحْوُ رِوَايَةِ عَطَاءٍ، وَعَمْرٍو، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ..امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی کہنے والے نے کہا: ہم نے ابوجعفر محمد بن علی سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے صرف مدبر کی خدمت کو فروخت کیا تھا۔ میں نے اس سے کہا: ”میرے علم کے مطابق ابوجعفر سے یہ بات کسی ایسے راوی نے روایت نہیں کی جس کی حدیث ثابت ہو، اور اگر کوئی ایسا راوی روایت کرتا جس کی حدیث ثابت ہے تب بھی اس میں کئی وجوہ سے تمہارے لیے دلیل نہ ہوتی۔“ اس نے کہا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: ”تم منقطع روایت کو ثابت نہیں مانتے اگرچہ کوئی دوسری روایت اس کے مخالف نہ ہو، تو اس منقطع کو کیسے ثابت مانو گے جس کے مخالف متصل ثابت روایت ہو، اگر وہ اس کے مخالف ہو؟“ اس نے کہا: کیا وہ اس کے مخالف ہے؟ میں نے کہا: ”یہ کوئی (معتبر) حدیث نہیں کہ مجھے اس کے ذکر کی ضرورت ہو۔“ اس نے کہا: تمہارے نزدیک اس کی جو حیثیت ہے اسی کے مطابق ذکر کر دو۔ میں نے کہا: ”اگر یہ ثابت ہوتی تو میرے لیے یہ کہنا جائز ہوتا کہ نبی ﷺ نے مدبر کی ذات کو بھی فروخت کیا جیسا کہ جابر نے بیان کیا، اور مدبر کی خدمت کو بھی جیسا کہ محمد بن علی نے بیان کیا۔“
انہوں نے اس کے جواب میں طویل کلام کیا۔ عبدالغفار بن قاسم نے اسے ابوجعفر سے، انہوں نے جابر سے متصل روایت کیا ہے، لیکن اس عبدالغفار پر علی بن مدینی حدیث گھڑنے کا الزام لگاتے تھے۔ ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے بھی اسے عثمان بن عمیر سے، انہوں نے ابوجعفر سے، انہوں نے جابر سے متصل روایت کیا ہے، لیکن ابو شیبہ ضعیف ہے اور اس جیسے راویوں سے دلیل نہیں لی جاتی۔ مجاہد اور محمد بن منکدر کے واسطے سے بھی جابر سے عطاء، عمرو اور ابوزبیر کی روایت جیسی روایت مروی ہے۔