السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : المدبر يجوز بيعه متى شاء مالكه. باب: مدبر غلام کو اس کا مالک جب چاہے فروخت کر سکتا ہے، یہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 21544
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ ⦗٥٢٣⦘ سُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، وَكَانَ مُحْتَاجًا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: " أَعْتَقْتَ غُلَامَكَ؟ " فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ "، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ؟ " فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: أَنَا، فَاشْتَرَاهُ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَنَهُ، فَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی نے اپنا مدبر غلام آزاد کر دیا اور وہ بذاتِ خود ضرورت مند تھا۔ نبی ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو بلوایا اور پوچھا: ”کیا تم نے غلام آزاد کر دیا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”تم تو اس کے ضرورت مند ہو؟“ پھر فرمایا: ”کون مجھ سے اس کو خریدے گا؟“ تو سیدنا نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، تو انہوں نے اسے خرید لیا، پھر نبی ﷺ نے قیمت لے کر اس کے مالک کو واپس کر دی۔