السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : المدبر يجوز بيعه متى شاء مالكه. باب: مدبر غلام کو اس کا مالک جب چاہے فروخت کر سکتا ہے، یہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 21537
فَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا مَذْكُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ⦗٥٢١⦘ كَانَ لَهُ غُلَامٌ قِبْطِيٌّ فَأَعْتَقَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ بِذَلِكَ الْعَبْدِ، فَبَاعَ الْعَبْدَ، وَقَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ فَلْيَبْدَأْ مَعَ نَفْسِهِ بِمَنْ يَعُولُ، ثُمَّ إِنْ وَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ فَضْلًا فَلْيَتَصَدَّقْ عَلَى غَيْرِهِمْ ". وَأَمَّا حَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ابو مذکور بنو عذرہ کا ایک آدمی تھا، اس کا ایک قبطی غلام تھا، اسے اس نے مدبر کر دیا، نبی ﷺ نے اس غلام کے بارے میں سنا تو اس غلام کو فروخت کر دیا اور فرمایا: ”جب آدمی فقیر ہو تو سب سے پہلے اپنے سے ابتدا کرے۔ اگر زائد ہو تو پھر اپنے ساتھ ان کو ملائے جن کا وہ کفیل ہے، پھر بھی زائد ہو پھر دوسروں پر صدقہ کرے۔“