السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من يعتق بالملك. باب: وہ شخص جو محض ملکیت میں آنے سے آزاد ہو جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ، ثنا الْعَرْزَمِيُّ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: صَالِحٌ بِأَخِيهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَ أَخِي هَذَا، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ أَعْتَقَهُ حِينَ مَلَكْتَهُ ". قَالَ عَلِيٌّ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْعَرْزَمِيُّ تَرَكَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى الْقَطَّانُ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ. قَالَ: وَأَبُو النَّضْرِ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَيْضًا هُوَ الْقَائِلُ: كُلُّ مَا حَدَّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ كَذِبٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوِهِ، وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ، وَحَفْصٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِيُّ، ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمْ..ابو صالح رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ صالح نامی ایک آدمی اپنے بھائی کو لے کر آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں اپنے اس بھائی کو آزاد کرنا چاہتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس وقت ہی آزاد ہو گیا جب تو اس کا مالک بن گیا۔“
علی دارقطنی رحمہ اللہ نے فرمایا: عرزمی کو ابن مبارک، یحییٰ القطان اور ابن مہدی نے ترک کر دیا ہے۔ اور ابو النضر، محمد بن سائب کلبی ہے جو متروک ہے، اور اسی نے یہ بھی کہا ہے: میں نے ابو صالح سے جو کچھ بیان کیا وہ سب جھوٹ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حفص بن ابی داؤد عن محمد بن ابی لیلیٰ عن عطاء عن ابن عباس کی سند سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور یہ سند ضعیف ہے، اور حفص، ابن سلیمان القاری ہے جسے شعبہ، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔