السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من يعتق بالملك. باب: وہ شخص جو محض ملکیت میں آنے سے آزاد ہو جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالْحَسَنِ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَسَعِيدٌ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادٍ. قَالَ أَحْمَدُ: وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ وَهِمَ فِيهِ رَاوِيهِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ مَلَکَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَہُوَ عَتِیقٌ» ”جو شخص کسی ایسے رشتہ دار کا مالک بن جائے جس سے (نکاح) حرام ہو، تو وہ آزاد ہے“
سلیمان رحمہ اللہ نے کہا کہ سفیان رحمہ اللہ سے اس حدیث کو سوائے ضمرہ کے کسی اور نے روایت نہیں کیا، شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سند کے ساتھ جو محفوظ حدیث ہے وہ «نَہٰی عَنْ بَیْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ ہِبَتِہِ» ”(نبی کریم ﷺ نے) ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا“ کے متعلق ہے، اور یقیناً ابوعمیر نے اسے ضمرہ سے، انہوں نے ثوری سے پہلی حدیث کے ساتھ ہی روایت کیا ہے۔ [منکر]