السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من يعتق بالملك. باب: وہ شخص جو محض ملکیت میں آنے سے آزاد ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 21413
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا اللَّيْثُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ - يَعْنِي: ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، وَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي، يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ. فَأَخْبَرَ أَنَّ وَلَدَهُ بَعْضٌ مِنْهُ، وَالْعَبْدُ إِذَا مَلَكَ نَفْسَهُ بِأَدَاءِ مَالِ الْكِتَابَةِ أَوْ بِابْتِيَاعِ نَفْسِهِ عَتَقَ، فَكَذَلِكَ الْحُرُّ إِذَا مَلَكَ وَلَدَهُ فَقَدْ مَلَكَ بَعْضَهُ، وَإِذَا مَلَكَ وَالِدَهُ فَقَدْ مَلَكَ مَنْ هُوَ بَعْضٌ مِنْهُ، فَوَجَبَ أَنْ يَعْتِقَ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ منبر پر فرما رہے تھے: ”بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کرنا چاہتے ہیں، میں ان کو اجازت نہ دوں گا، میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، اس نے مجھے پریشان کیا جس نے اس کو پریشان کیا، اس نے مجھے تکلیف دی جس نے میری بیٹی کو تکلیف دی۔“