السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : إثبات استعمال القرعة باب: قرعہ اندازی کے استعمال کے ثبوت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا، وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا، فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاءِ، فَمَرُّوا عَلَى مَنْ فَوْقَهُمْ آذَوْهُمْ فَقَالُوا: لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِي نَصِيبِنَا خَرْقًا فَاسْتَقَيْنَا مِنْهُ وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا فَإِنْ تَرَكُوهُمْ وَمَا أَرَادُوا هَلَكُوا جَمِيعًا، وَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ نَجَوْا جَمِيعًا " ⦗٤٨٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی حدوں پر قائم رہنے والا اور حدود اللہ میں واقع ہونے والا ایسے ہیں جیسے دو گروپوں نے کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کی، ایک گروپ کو اوپر والا حصہ ملا اور دوسرے کو نیچے والا حصہ، تو نیچے والوں کو جب پانی کی ضرورت پیش آتی ہے وہ اوپر والوں کے پاس جاتے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے تکلیف محسوس کی۔ نیچے والے کہنے لگے: اگر ہم اپنے حصہ میں سوراخ کر لیں اور پانی حاصل کریں تاکہ اوپر والے پریشان نہ ہوں۔ اگر ان کو چھوڑ دیا، یعنی کام کرنے دیا تو سب ہلاک ہو جائیں گے، اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیے تو سب نجات پا جائیں گے۔“