السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : عتق العبيد لا يخرجون من الثلث. باب: ان غلاموں کو آزاد کرنے کا بیان جو ایک تہائی مال سے متجاوز نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 21398
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَمْرٌو - يَعْنِي: ابْنَ حَمَّادٍ الْقَنَّادَ، ثنا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ مَاتَ رَجُلٌ، وَتَرَكَ سِتَّةَ رِجَالٍ، فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَجَاءَ وَرَثَتُهُ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَوْ عَلِمْنَا، مَا صَلَّيْنَا عَلَيْهِ "، وَقَالَ: " ادْعُهُمْ لِي "، فَدَعَاهُمْ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ..حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی فوت ہو گیا، چھ غلام چھوڑے، ان کو اپنی موت کے وقت آزاد کر دیا، اس کے ورثاء نے آ کر نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ہمیں معلوم ہوتا تو ہم اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھتے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلاموں کو بلاؤ۔“ ان کو بلایا گیا، آپ ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام رکھا۔