السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : عتق العبيد لا يخرجون من الثلث. باب: ان غلاموں کو آزاد کرنے کا بیان جو ایک تہائی مال سے متجاوز نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 21394
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ أَعْبُدٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، ثُمَّ جَزَّأَهُمْ، أَظُنُّهُ قَالَ: ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْهَالِ وَغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے چھ غلام تھے، اس کا کوئی دوسرا مال نہ تھا، اس نے اپنی موت کے وقت آزاد کر دیے، یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا، پھر آپ ﷺ نے ان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام باقی رکھا۔