السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : عتق العبيد لا يخرجون من الثلث. باب: ان غلاموں کو آزاد کرنے کا بیان جو ایک تہائی مال سے متجاوز نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 21390
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا، مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمَالِيكَ، لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، أَوْ قَالَ: أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ مَمَالِيكَ لَهُ، وَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا، ثُمَّ: دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری مرد نے اپنی موت کے وقت چھ غلام آزاد کر دیے، اس کا اور کوئی غلام نہ تھا، نبی ﷺ کو یہ خبر ملی تو نبی ﷺ نے اس کے بارے میں سخت کلام فرمایا، پھر غلاموں کو منگوا کر تین حصوں میں تقسیم کر دیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام رکھا۔