السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من أعتق نصيبه من مملوك في مرض موته. باب: جس نے اپنے مرض الوفات میں مملوک (غلام) میں سے اپنا حصہ آزاد کیا۔
حدیث نمبر: 21388
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا السَّرَّاجُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ شِرْكٌ فِي غُلَامٍ ثُمَّ أَعْتَقَ نَصِيبَهُ وَهُوَ حِيُّ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ فِي مَالِهِ، ثُمَّ أَعْتَقَ ". قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ: قَالَ أَصْحَابُنَا: قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَهُوَ حَيٌّ " - يَعْنِي: حِينَ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ، يَدُلُّ عَلَى أَنْ لَا يُقَوَّمَ عَلَيْهِ بَعْدَ الْمَوْتِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَكَذَا قَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب آدمی غلام میں شریک ہو، پھر اپنا حصہ آزاد کر دے اور وہ زندہ ہو، پھر اس کے مال سے عدل والی قیمت قائم کی جائے گی، پھر آزاد کر دیا جائے گا۔“
ابو الولید فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب نے کہا: آپ ﷺ کے فرمان ”اور وہ زندہ ہو“ کا مطلب یہ ہے کہ قیمت اس کی زندگی میں قائم کی جائے گی موت کے بعد نہیں۔