❮
❯
حدیث نمبر: 21353
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ لِبَعْضِ مَنْ يُنَاظِرُهُ: أَوَ لِلْمُنَاظَرَةِ مَوْضِعٌ مَعَ ثُبُوتِ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بِطَرْحِ ⦗٤٧١⦘ الِاسْتِسْعَاءِ فِي حَدِيثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَإِنَّا نَقُولُ: إِنَّ أَيُّوبَ قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: " فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ "، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ قَالَ: وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَيْءٌ كَانَ يَقُولُهُ نَافِعٌ بِرَأْيِهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَقُلْتُ لَهُ: لَا أَحْسِبُ عَالِمًا بِالْحَدِيثِ وَرُوَاتِهِ يَشُكُّ فِي أَنَّ مَالِكًا أَحْفَظُ لِحَدِيثِ نَافِعٍ مِنْ أَيُّوبَ، لِأَنَّهُ كَانَ أَلْزَمَ لَهُ مِنْ أَيُّوبَ، وَلِمَالِكٍ فَضْلُ حِفْظٍ لِحَدِيثِ أَصْحَابِهِ خَاصَّةً، وَلَوِ اسْتَوَيَا فِي الْحِفْظِ فَشَكَّ أَحَدُهُمَا فِي شَيْءٍ لَمْ يَشُكَّ فِيهِ صَاحِبُهُ لَمْ يَكُنْ فِي هَذَا مَوْضِعٌ لِأَنْ يُغَلَّطَ بِهِ الَّذِي لَمْ يَشُكَّ، إِنَّمَا يُغَلَّطُ الرَّجُلُ بِخِلَافِ مَنْ هُوَ أَحْفَظُ مِنْهُ، أَوْ يَأْتِيَ بِشَيْءٍ فِي الْحَدِيثِ يَشْرُكُهُ فِيهِ مَنْ لَمْ يَحْفَظْ مِنْهُ مَا حَفِظَ مِنْهُ، هُمْ عَدَدٌ، وَهُوَ مُنْفَرِدٌ، وَقَدْ وَافَقَ مَالِكًا فِي زِيَادَةٍ: " وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " - يَعْنِي: غَيْرُهُ، قَالَ: وَزَادَ فِيهِ بَعْضُهُمْ: " وَرَقَّ مِنْهُ مَا رَقَّ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا حَدِيثُ أَيُّوبَ، فَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِيمَا مَضَى..
حافظ ثناء اللہ

ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے ایک شخص سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کی سنت ثابت ہو جانے کے بعد بھی مناظرے کی کوئی گنجائش ہے کہ نافع عن ابن عمر کی حدیث میں غلام سے محنت کروانے (استسعاء) کو ساقط کیا گیا ہے؟ اس نے کہا: ہم کہتے ہیں کہ ایوب نے کہا: نافع کبھی «جتنا آزاد ہوا اتنا ہی آزاد ہے» کہتے اور کبھی نہ کہتے، اور (ایوب نے) کہا: میرا غالب گمان یہ ہے کہ یہ بات نافع اپنی رائے سے کہا کرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس سے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ حدیث اور اس کے راویوں کا کوئی عالم اس میں شک کرے کہ امام مالک نافع کی حدیث کو ایوب سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں، کیونکہ وہ ایوب سے زیادہ ان کے ساتھ رہے، اور امام مالک کو خاص طور پر اپنے اساتذہ کی احادیث یاد رکھنے میں فضیلت حاصل ہے۔ اور اگر دونوں حافظے میں برابر بھی ہوں اور ان میں سے ایک کسی بات میں شک کرے جس میں دوسرے کو شک نہ ہو تو اس سے شک نہ کرنے والے کو غلط قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں۔ آدمی کو تو اس وقت غلط قرار دیا جاتا ہے جب اس سے زیادہ حافظے والا اس کی مخالفت کرے، یا وہ حدیث میں کوئی ایسی بات لائے جس میں اس کے ساتھ وہ لوگ شریک ہوں جنہوں نے اس سے وہ بات یاد نہ رکھی جو اس نے یاد رکھی، وہ کئی ہوں اور یہ اکیلا ہو۔ اور اس زیادتی «وگرنہ جتنا آزاد ہوا اتنا ہی آزاد ہے» میں دوسروں نے بھی امام مالک کی موافقت کی ہے۔ اور بعض نے اس میں «وَرَقَّ مِنْهُ مَا رَقَّ» (اور جتنا غلام رہا وہ غلام ہی رہے گا) کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رہی ایوب کی حدیث تو ہم اسے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21353
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»