السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال: يعتق بالقول ويدفع القيمة. باب: جس نے کہا: وہ قول (زبان سے کہنے) سے آزاد ہو جائے گا اور (دوسرے شریک کے حصے کی) قیمت ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 21350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْأَسْوَدِ وَأُمِّنَّا غُلَامٌ قَدْ شَهِدَ الْقَادِسِيَّةَ وَأَبْلَى فِيهَا، فَأَرَادُوا عِتْقَهُ وَكُنْتُ صَغِيرًا، ⦗٤٧٠⦘ فَذَكَرَ الْأَسْوَدُ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُمَرُ: " أَعْتِقُوا أَنْتُمْ، وَيَكُونُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى نَصِيبِهِ حَتَّى يَرْغَبَ فِي مِثْلِ مَا رَغِبْتُمْ فِيهِ، أَوْ يَأْخُذَ نَصِيبَهُ ". وَيُحْتَمَلُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ نَصِيبَهُ مِنَ الْقِيمَةِ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا، وَرُوِيَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَعْنَى حَدِيثٌ مُرْسَلٌ..حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے، اسود اور ہماری ماں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، وہ جنگِ قادسیہ میں حاضر ہوا اور وہاں خوب بہادری دکھائی۔ انہوں نے اس کی آزادی کا ارادہ کیا، میں چھوٹا تھا، اسود نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تذکرہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم آزاد کرو اور عبدالرحمن اپنے حصہ پر برقرار رہیں گے یہاں تک کہ وہ بھی اسی چیز میں رغبت کریں جس میں تم نے رغبت کی ہے، یا اپنا حصہ لے لیں گے۔