السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من أعتق شركا له في عبد وهو موسر. باب: جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور وہ خوشحال (مالدار) ہو۔
حدیث نمبر: 21328
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا فَإِنَّهُ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ بِأَغْلَى الْقِيمَةِ، أَوْ قِيمَةِ عَدْلٍ لَيْسَتْ بِوَكْسٍ، وَلَا شَطَطٍ، ثُمَّ يَغْرَمُ لِهَذَا حِصَّتَهُ ". كَذَا رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ الْأَحَادِيثِ، وَرَوَاهُ فِي كِتَابِ الْقُرْعَةِ، فَقَالَ: " بِأَغْلَى الْقِيمَةِ وَيَعْتِقُ "، وَرُبَّمَا قَالَ: " قِيمَةٌ لَا وَكْسَ فِيهَا وَلَا شَطَطَ ". رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ نَحْوَ الرِّوَايَةِ الْأُولَى، عَنِ الشَّافِعِيِّ، زَادَ: " ثُمَّ يُعْتِقُ "، وَزَادَ: قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ عَمْرٌو يَشُكُّ فِيهِ هَكَذَا..حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دو بندوں کا غلام تھا، ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، اگر وہ مال دار ہے تو مہنگی قیمت یا عدل والی قیمت مقرر کی جائے گی، اس میں کمی بیشی نہ کی جائے گی۔ پھر اس پر باقی حصص کی چٹی ڈالی جائے گی۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مہنگی قیمت مقرر ہو گی اور آزاد کیا جائے گا۔ لیکن قیمت کے اندر کمی، بیشی نہ کی جائے گی۔