السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: نذر العمرة في شهر مسمى فيه، عن جابر من قوله باب: کسی متعین مہینے میں عمرہ کرنے کی نذر ماننے کا بیان، اس بارے میں حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) کا قول مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20145
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَجْعَلُ عَلَيْهَا عُمْرَةً فِي شَهْرٍ ⦗١٤٥⦘ مُسَمًّى، ثُمَّ يَخْلُو إِلَّا لَيْلَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ تَحِيضُ قَالَ: " لِتَخْرُجْ، ثُمَّ لِتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ لِتَنْتَظِرْ حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْكَعْبَةِ، ثُمَّ لِتُصَلِّ ".حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ایک عورت کے بارے میں سنا جس کے ذمے ایک مخصوص مہینے کا عمرہ تھا، صرف ایک رات گزرنے کے بعد اس کو حیض ہو گیا، انہوں نے فرمایا: وہ نکلے اور عمرہ کا تلبیہ کہے، پھر پاک ہونے کا انتظار کرے، پاک ہونے کے بعد بیت اللہ کا طواف کرے، پھر نماز پڑھ لے۔