السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: من لم ير وجوبه بالنذر، أو أقام الأفضل من هذه المساجد الثلاثة مقام ما هو أدنى منه باب: اس شخص کا بیان جو نذر کے سبب اسے واجب نہیں سمجھتا، یا جو ان تینوں مساجد میں سے افضل کو کم درجے والی کے قائم مقام قرار دیتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ شَكْوَى، فَقَالَتْ: لَئِنْ شَفَانِي اللهُ، لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَبَرَأَتْ، ثُمَّ تَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ، فَجَاءَتْ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ، فَقَالَتِ: " اجْلِسِي، فَكُلِي مِمَّا صَنَعْتِ، وَصَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ ". ⦗١٤٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.ابراہیم بن عبداللہ بن معبد فرماتے ہیں کہ ایک عورت بیمار ہو گئی، اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو بیت المقدس میں جا کر نماز ادا کروں گی، وہ صحت یاب ہو گئی، اس نے جانے کی تیاری کی تو نبی ﷺ کی بیوی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا اس کے پاس آئیں، اس نے تھوڑا سا سفر مؤخر کر دیا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بیٹھ جا اور جو میں بنا کر لائی ہوں کھا لے اور مسجد نبوی میں نماز ادا کر لے، کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”باقی مساجد میں نماز پڑھنے سے مسجد نبوی کی پڑھی ہوئی نماز کے برابر نہیں، یعنی اس میں ایک نماز کا ثواب ہزار نماز کے برابر ہے سوائے بیت اللہ کے۔“