السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الوفاء بالعهد إذا كان العقد مباحا وما ورد من التشديد في نقضه باب: جب معاہدہ جائز ہو تو عہد پورا کرنے کا بیان اور اسے توڑنے پر جو سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ، وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ غَزَاهُمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ، فَنَظَرُوا فَإِذَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَشُدَّ عُقْدَةً وَلَا يُحِلَّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ "، فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ..سلیم بن عامر، قبیلہ حمیر کے ایک شخص سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک عہد تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے شہروں کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تاکہ جب عہد کی مدت ختم ہو تو ان پر حملہ کر دیں۔ (اسی دوران) ایک شخص گھوڑے پر سوار ہو کر آیا، وہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا: «اَللهُ أَکْبَرُ، اَللهُ أَکْبَرُ، وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ» ”اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، عہد کو پورا کرو، دھوکا نہ دو۔“ لوگوں نے دیکھا تو وہ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف آدمی بھیج کر (اس متعلق) پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کا کسی قوم کے ساتھ عہد ہو تو وہ اس عہد میں نہ تو کوئی (مزید) پختگی کرے اور نہ اسے توڑے، جب تک کہ اس کی مدت ختم نہ ہو جائے یا وہ برابری کی بنیاد پر ان کی طرف (عہد) پھینک نہ دے۔“