السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما يستدل به على أنه إنما أعتقهم بالإسلام والخروج من بلاد منصوب عليها الحرب باب: اس دلیل کا بیان کہ ان (غلاموں) کو ان کے اسلام لانے اور اس علاقے سے نکلنے کی وجہ سے آزاد کیا گیا جس پر جنگ مسلط کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 18844
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِيهِ "، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ؟. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَوْ كَانَ الْإِسْلَامُ يُعْتِقُهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ حُرًّا وَلَكِنَّهُ أَسْلَمَ غَيْرَ خَارِجٍ مِنْ بِلَادٍ مَنْصُوبٍ عَلَيْهَا الْحَرْبُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام نے آ کر نبی ﷺ کی ہجرت پر بیعت کر لی۔ آپ ﷺ کو معلوم نہیں تھا کہ یہ غلام ہے تو اس کا مالک لینے آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ تو آپ ﷺ نے اس کو دو سیاہ غلاموں کے عوض خریدا۔ اس کے بعد بیعت کے وقت پوچھ لیتے: ”کیا وہ غلام تو نہیں؟“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اسلام قبول کرنا اس کو آزاد کر دے تو اس سے کسی آزاد کو خریدا نہ جائے گا، لیکن اس شخص کو جو لڑائی کے علاقہ سے نکلے بغیر اسلام قبول کر لیتا ہے۔