السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الهدنة على أن يرد الإمام من جاء بلده مسلما من المشركين باب: اس شرط پر جنگ بندی کا بیان کہ مشرکین میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر امام کے ملک میں آئے گا امام اسے واپس لوٹا دے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ قَالَ فِيهَا: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلُ امِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ مَعَهُ أَحَدٌ ". وَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ بِسَلَبِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: خَمِّسْ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: " إِنِّي إِذَا خَمَّسْتُهُ لَمْ أُوْفِ لَهُمْ بِالَّذِي عَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ وَلَكِنْ شَأْنُكَ بِسَلَبِ صَاحِبِكَ وَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ ". فَخَرَجَ أَبُو بَصِيرٍ مَعَهُ خَمْسَةُ نَفَرٍ كَانُوا قَدِمُوا مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى كَانُوا بَيْنَ الْعِيصِ وَذِي الْمَرْوَةِ مِنْ أَرْضِ جُهَيْنَةَ عَلَى طَرِيقِ عِيرَاتِ قُرَيْشٍ مِمَّا يَلِي سِيفَ الْبَحْرِ لَا يَمُرُّ بِهِمْ عِيرٌ لِقُرَيْشٍ إِلَّا أَخَذُوهَا وَقَتَلُوا أَصْحَابَهَا، وَانْفَلَتَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فِي سَبْعِينَ رَاكِبًا أَسْلَمُوا وَهَاجَرُوا فَلَحِقُوا بِأَبِي بَصِيرٍ وَكَرِهُوا أَنْ يَقْدَمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هُدْنَةِ الْمُشْرِكِينَ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ بِمَعْنَى مَا تَقَدَّمَ وَأَتَمَّ مِنْهُ.اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے اس قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں مر جائے، (یہ تو) لڑائی کی آگ بھڑکانے والا ہے، اگرچہ تیرا ایک ہی ساتھی کیوں نہ ہو“ اور ابو بصیر رضی اللہ عنہ مقتول کا سامان لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے، کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! پانچواں حصہ وصول کر لیں“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں نے پانچواں حصہ وصول کر لیا تو گویا میں نے ان کا وعدہ پورا نہ کیا، لیکن یہ سامان لے کر جہاں چاہو چلے جاؤ“ تو ابو بصیر رضی اللہ عنہ پانچ ساتھیوں سمیت جو مکہ سے آئے تھے، عیص اور ذی المروہ (جہینہ کی سرزمین) جہاں سے قریشیوں کا جو قافلہ بھی گزرتا، اسے لوٹ لیتے اور مردوں کو قتل کر دیتے۔ ابو جندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما ستر آدمیوں کے قافلہ میں مسلمان ہو کر ہجرت کر کے ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا ملے اور انہوں نے مشرکین کے ساتھ صلح کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانا پسند نہ کیا۔