حدیث نمبر: 18821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ: فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي، فَقِيلَ لَهُ: بِأِيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تُنَادِي؟ فَقَالَ: أَمَرَنَا أَنْ نُنَادِيَ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَشْهُرُ فَإِنَّ اللهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ. وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَمَنْ كَانَ لَهُ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ تَسْيِيرَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ مَضَى هَذَا فِي حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ.
حافظ ثناء اللہ

محرر بن ابوہریرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب آپ نے اہل مکہ سے براءت کا اعلان کروایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اعلان کرتا لیکن میری آواز ہلکی ہے، تو پوچھا گیا: ”کس بات کا آپ اعلان کرنا چاہتے ہیں؟“ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے ان باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا ہے: (1) جنت میں صرف مومن داخل ہوگا۔ (2) نبی ﷺ کا جس سے عہد تھا، اس کی مدت چار ماہ ہے۔ (3) جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ بری ہیں۔ (4) ننگے بدن بیت اللہ کا طواف نہ کیا جائے۔ (5) اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے۔“
(ب) زید بن یثیع رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کا معاہدہ تھا اسے پورا کیا جائے گا اور جس کا معاہدہ نہیں اس کی مدت چار ماہ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیہ کو فتح مکہ کے بعد چار ماہ مہلت دی تھی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18821
درجۂ حدیث محدثین: صحيح تقدم برقم ١٧٩٤٨
تخریج حدیث «صحيح تقدم برقم ١٧٩٤٨»