السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: المهادنة إلى غير مدة باب: غیر معینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقِرَّهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوهُ عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا "، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَإِسْحَاقِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَالَ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ: " نُقِرُّكُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ: " أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ". وَفِي رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ: " مَا بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ ". وَكَذَلِكَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا: " أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ ". وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْصُولًا. وَقَدْ مَضَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتُ بِأَسَانِيدِهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنْ قِيلَ فَلِمَ لَا تَقُولُ أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ، يَعْنِي كُلَّ إِمَامٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: الْفَرْقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنَّ أَمْرَ اللهِ كَانَ يَأْتِي رَسُولَهُ بِالْوَحْيِ وَلَا يَأْتِي أَحَدًا غَيْرَهُ بِوَحْيٍ.نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہود و نصاریٰ کو ارض حجاز سے جلا وطن کیا اور رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر فتح کیا تھا تو یہود کو وہاں سے جلا وطن کرنا چاہا، کیونکہ یہ زمین اللہ، رسول اور مسلمانوں کی تھی، جب آپ نے یہود کو نکالنے کا ارادہ کر لیا تو یہود نے نبی ﷺ سے پوچھا: اگر آپ ہمیں زمینوں پر کام کرنے دیں اور تو آدھا پھل آپ کا ہوگا۔ آپ نے فرمایا: ”جتنی دیر ہم چاہیں گے تمہیں برقرار رکھیں گے“، آپ نے تو برقرار رکھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء بستیوں کی جانب جلا وطن کر دیا۔
(ب) موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک ہم چاہیں گے برقرار رکھیں گے۔“
(ج) اسامہ بن زید رحمہ اللہ حضرت نافع رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں اس پر برقرار رکھوں گا، جتنی دیر چاہوں گا۔“
(د) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہم تمہیں اتنی دیر برقرار رکھیں گے جتنی دیر اللہ رب العزت برقرار رکھیں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ» ”میں تمہیں برقرار رکھوں گا جب تک اللہ تمہیں برقرار رکھے گا“ کا مطلب ہے کہ میرے بعد خلیفہ جتنی دیر تمہیں برقرار رکھیں، خلیفہ اور رسول میں یہ فرق ہوگا کہ رسول کے پاس اللہ کی جانب سے وحی آتی ہے جبکہ کسی دوسرے کے پاس وحی نہیں آتی۔