السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: مهادنة الأئمة بعد رسول رب العزة إذا نزلت بالمسلمين نازلة باب: رب العزت کے رسول ﷺ کے بعد مسلمانوں پر کوئی مصیبت آنے پر ائمہ (حکمرانوں) کا جنگ بندی کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ لِي: " يَا عَوْفُ اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: مَوْتِي ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ مُوتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ فِيكُمْ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلَّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا تُبْقِي بَيْتًا مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ". قَالَ الْوَلِيدُ: فَذَاكَرْنَا هَذَا الْحَدِيثَ شَيْخًا مِنْ شُيُوخِ الْمَدِينَةِ فِي قَوْلِهِ: " ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " فَقَالَ الشَّيْخُ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ مَكَانَ فَتْحِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ: عِمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ دُونَ إِسْنَادِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ تبوک میں نبی مکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیوں کو شمار کرو: میری وفات، بیت المقدس کی فتح، بے شمار اموات جیسے بکریاں اچانک مر جاتی ہیں، مال کا زیادہ ہونا یہاں تک کہ ایک شخص کو سو دینار دیا جائے گا لیکن وہ ناراض ہو جائے گا، ایک فتنہ رونما ہوگا جو عرب کے تمام گھروں میں داخل ہو جائے گا، تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح ہو جائے گی لیکن وہ عہد شکنی کریں گے، وہ تمہارے پاس اسی (80) جھنڈوں تلے آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار ہوں گے۔“
(ب) ولید کہتے ہیں: ہم نے مدینہ کے ایک شیخ سے اس حدیث کے الفاظ ”پھر بیت المقدس کی فتح“ کا مذاکرہ کیا تو شیخ نے کہا: مجھے سعید نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ وہ یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے تھے اور ”بیت المقدس کی فتح“ کی جگہ ”بیت المقدس کی آبادی“ کہتے تھے۔