السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الوصاة بأهل الذمة باب: اہل ذمہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ التَّيْمِيَّ، يَقُولُ: حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْطُبُ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ، قَالَ: فَمَا كَانَتْ إِلَّا جُمُعَةٌ أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ حَتَّى أُصِيبَ، ثُمَّ أَذِنَ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَذِنَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ أَذِنَ لِأَهْلِ الشَّامِ، ثُمَّ أَذِنَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ، فَكُنَّا فِي آخِرِ مَنْ دَخَلَ، فَإِذَا عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ أَوْ بُرْدٌ أَسْوَدُ قَدْ عُصِبَ عَلَى طَعْنَتِهِ، وَإِذَا الدَّمُ يَسِيلُ فَقُلْنَا: أَوْصِنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: أُوصِيكُمْ بِكِتَابِ اللهِ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوهُ، وَأُوصِيكُمْ بِالْمُهَاجِرِينَ، فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ، وَأُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ، فَإِنَّهُمْ شَعْبُ الْإِسْلَامِ الَّذِي نَجَا إِلَيْهِ، وَأُوصِيكُمْ بِالْأَعْرَابِ، فَإِنَّهُمْ أَصْلُكُمْ وَمَادَّتُكُمْ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَعَدُوُّ عَدُوِّكُمْ، وَأُوصِيكُمْ بِذِمَّةِ اللهِ، فَإِنَّهُمْ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا عَنِّي. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.جویریہ بن قدامہ کہتے ہیں کہ میں حج کر کے مدینہ آیا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ میں نے مرغ کو دیکھا، اس نے مجھے ایک یا دو مرتبہ چونچ ماری۔ راوی کہتے ہیں: جمعہ کا دن تھا کہ انہیں زخمی کر دیا گیا۔ سب سے پہلے صحابہ، امیرِ مدینہ والوں، پھر شامی، پھر عراقی لوگوں کو اجازت دی گئی۔ میں سب سے آخر میں داخل ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زخم پر سیاہ چادر باندھی گئی تھی اور خون بہہ رہا تھا۔ ہم نے وصیت کرنے کے بارے میں کہا تو فرمایا: جب تک تم کتاب اللہ کی پیروی کرتے رہو گے گمراہ نہ ہو گے اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ لوگوں کی قلت و کثرت ہوتی رہتی ہے اور میں تمہیں انصار کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، یہ اسلام کی ایسی گھاٹی کی مانند ہیں جس میں پناہ حاصل کی جاتی ہے اور دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل ہیں اور دوسری مرتبہ فرمایا، کیونکہ یہ تمہارے بھائی اور تمہارے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ میں اللہ کے وعدے کی وصیت کرتا ہوں، وہ تمہارے نبی ﷺ کے عہد میں ہیں اور تمہارے عیال کے رزق کی نصیحت کرتا ہوں۔ پھر فرمانے لگے: میرے قریب سے اٹھ جاؤ۔