السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: لا يأخذ منهم في الجزية خمرا ولا خنزيرا باب: ان سے جزیہ میں شراب اور خنزیر نہیں لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18738
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يُقَلِّبُ يَدَهُ هَكَذَا فَقُلْتُ لَهُ: مَا لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ خَلَطَ فِي فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ أَثْمَانَ الْخَمْرِ وَأَثْمَانَ الْخَنَازِيرِ، أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ أَنْ يَأْكُلُوهَا فَجَمَّلُوهَا فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ". قَالَ سُفْيَانُ يَقُولُ: لَا تَأْخُذُوا فِي جِزْيَتِهِمُ الْخَمْرَ وَالْخَنَازِيرَ، وَلَكِنْ خَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ بَيْعِهَا، فَإِذَا بَاعُوهَا فَخُذُوا أَثْمَانَهَا فِي جِزْيَتِهِمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے امیر المومنین! یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ عراق کے عامل نے شراب اور خنزیر کی قیمتیں مالِ فئے میں شامل کر دی ہیں۔ کیا آپ جانتے نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر چربی کو کھانا حرام قرار دیا، پھر انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر کے اس کی قیمت کو کھایا۔“ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان سے جزیہ میں شراب و خنزیر وصول نہ کرو، بلکہ ان کو فروخت کرنے دو، ان کی قیمت جزیہ میں وصول کر لو۔